کتاب اعتراف به زندگی

اثر پابلو نرودا از انتشارات نشر چشمه - مترجم: احمد پوری-نوبل ادبیات

The south of Chile was a frontier wilderness when Pablo Neruda was born in 1904. In these memoirs he retraces his bohemian student years in Santiago; his sojourns as Chilean consul in Burma, Ceylon, and Java, in Spain during the civil war, and in Mexico; and his service as a Chilean senator. Neruda, a Communist, was driven from his senate seat in 1948, and a warrant was issued for his arrest. After a year in hiding, he escaped on horseback over the Andes and then to Europe; his travels took him to Russia, Eastern Europe, and China before he was finally able to return home in 1952. The final section of the memoirs was written after the coup in 1972 that overthrew Nerudas friend Salvador Allende.


خرید کتاب اعتراف به زندگی
جستجوی کتاب اعتراف به زندگی در گودریدز

معرفی کتاب اعتراف به زندگی از نگاه کاربران
چلی کا پرسکون مہکتا ہوا گھنا جنگل آج بھی اپنی تمام تر شادابی سمیت میری یادوں میں لہلہاتا ہے

بارش میرے لئے ایک نا قابل فراموش حقیقت کا درجہ رکھتی ہے

میں نے پہلی بار اپنی آنکھیں زندگی، زمین، شاعری اور بارش کے لئے کھولیں

میرا گھر ان سرحدی مکانوں جیسا تھا جو سب آپس میں مربوط تھے

گھر میں ہمارے پاس ایک صندوق تھا جو دلچسپ چیزوں سے بھرا ہوا تھا

مجھے کتابوں سے رغبت ہو گئی

بچپن کی یادوں میں صحیح طور پر وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا

بچپن میں ایک شدید جذبہ مجھ میں پیدا ہوا اور میں نے کچھ الفاظ آدھے وزن میں ترتیب دیے

یہ ایک نظم تھی، اپنی سوتیلی ماں کے بارے میں

میرے استاد نے کچھ ٹالسٹای، دوستوفسکی اور چیخوف کے ناول دیے

بحر الکاہل آزاد ہو کر پہاڑوں کی چٹانوں پر موجود جھاڑیوں کے جھنڈ میں سے بار بار حملہ آور ہوتا

رات اور جنگل مجھے خوشی سے بے حال کر دیتی

شاید جنگل ان زندگیوں کو کھا گیا

اداس عورتیں نے دنیا کے تنہا پہاڑوں اور جنگل کی تنہائی میں ایک عمدہ ثقافت کو محفوظ رکھا

درخشاں سورج ایک نا تراشیدہ ہیرے کے مانند پہاڑوں کو جھلملاتا تھا

اس سنہری تہوار میں شورو غل اور حرکت و عمل تھا

اسکی مسکراہٹ میرے وجود کی گرہیں کھولتی اطراف و اکناف پر محیط ہو رہی تھی

اس کی سانسوں کی موسیقی میری سماعت میں رس گھولنے لگی

میرا دماغ کتابوں اور خوابوں سے معمور تھا

نظمیں شہد کی مکھیوں کی طرح میرے ارد گرد بھنبھناتی تھیں

میں اپنی آزادی اور تنہائی سمیت وہاں رہنے لگا

میری یادوں میں وہ ریل گاڑی ہمیشہ محفوظ رہے گی

ہم روشنی کے دوازوں کی طرف بڑھ رہے تھے

کثیر تعداد کے ہیجان خیز رنگوں کا اجتماع

درخشاں تنہائی

صوفیانہ طرز حیات کا اظہار ختم ہو گیا تھا

میں دنیا کی اس قدیم ترین روح اور اس بڑے بد نصیب انسانی خاندان کے ساتھ رہنے آیا تھا

تب وہ رات مجھے بہت طوفانی اور زمین بہت تنہا لگی

مشاهده لینک اصلی
کتاب های مرتبط با - کتاب اعتراف به زندگی